| ہم اپنے دل میں محبت جگا کے دیکھتے ہیں |
| اندھیری رات میں دیپک جلا کے دیکھتے ہیں |
| کسی کے درد کو اپنا بنا کے دیکھتے ہیں |
| چلو کہ رسمِ وفا پھر نبھا کے دیکھتے ہیں |
| یہ اور بات کہ منزل نظر نہیں آتی |
| قدم تو راہ میں آگے بڑھا کے دیکھتے ہیں |
| کسی کے لب پہ تبسّم اگر نہیں اُس پر |
| ہم اپنے حصّے کی خوشیاں لٹا کے دیکھتے ہیں |
| ہزار زخم سہی حوصلہ تو زندہ ہے |
| اگر گرے ہیں تو خود کو اٹھا کے دیکھتے ہیں |
| جو نفرتوں نے دلوں میں بنا لیے ہیں حصار |
| محبتوں سے فصیلیں گرا کے دیکھتے ہیں |
| ہمیں بھی شوق ہے دنیا کو جیت لینے کا |
| جگہ دلوں میں ذرا سی بنا کے دیکھتے ہیں |
| بہت غرور ہے جن کو حسین ہونے کا |
| ہے وقت آئینہ ان کو دکھا کے دیکھتے ہیں |
| سنا ہے عشق میں ملتا ہے راستہ خود بھی |
| کسی کی یاد کو دل میں بسا کے دیکھتے ہیں |
| قلم کو روشنی طارِق سخن کی دے کر ہم |
| دلوں کے بند دریچے کھلا کے دیکھتے ہیں |
معلومات