کسی کے درد کو اپنا بنا کے دیکھ ذرا
کسی کی سن کے پھر اپنی سنا کے دیکھ ذرا
یہ زندگی جو کبھی امتحان بن جائے
کسی کے واسطے آساں بنا کے دیکھ ذرا
دلوں کے درمیاں دشمن نے جو کھڑی کی ہے
تُو نفرتوں کی وہ دیوار ڈھا کے دیکھ ذرا
چراغ بننا اگر ہے تو رات سے ڈر کیا
ہوا کے رُخ پہ دیا اک جلا کے دیکھ ذرا
ترے نصیب میں شاید بہار آ جائے
کسی کا باغ خزاں سے بچا کے دیکھ ذرا
اگر ہے آرزو پھر کھُل کے مسکرانے کی
کسی کے پونچھ کے آنسو ہنسا کے دیکھ ذرا
ترے بغیر بھی دنیا چلے گی کیا شک ہے
کبھی تو اپنی انا کو ہٹا کے دیکھ ذرا
اگر توُ چاہتا ہے خود سے آشنائی تو
کسی کے کام کبھی خود بھی آ کے دیکھ ذرا
وہ ایک ہے وہ مگر ایک کا نہیں طارِق
حضُور اُس کے کبھی سَر جُھکا کے دیکھ ذرا

0
7