حسین نقش و ادا ہی جمال تھوڑی ہے
جمال ہو بھی اگر لا زوال تھوڑی ہے
عمل سے خواب کو تعبیر دے تو بات بنے
فقط خیال سجانا کمال تھوڑی ہے
لہو پسینہ اگر راستوں میں بہتا ہو
تو کوئی روکے کسی کی مجال تھوڑی ہے
چراغِ عزم کو طوفان کیا بجھائے گا
یہ روشنی ہے کوئی شمعِ حال تھوڑی ہے
رکیں تو خاک بنا دے گی گردشِ ایّام
چلیں تو وقت بھی اپنا غزال تھوڑی ہے
کسی کے کام جو آ جائے زندگی ٹھہرے
اِس ایک بات سے بڑھ کر کمال تھوڑی ہے
جو اپنے حصے کی دنیا سنوارنے نکلے
وہ شخص وقت کے ہاتھوں نڈھال تھوڑی ہے
خدا نے ہاتھ دیئے ہیں تو پھر اُٹھا ان کو
دعا سے امر کوئی بھی محال تھوڑی ہے
چراغ دل میں یقیں کا جلائے رکھ طارق
سحر کا وعدہ فقط اک خیال تھوڑی ہے

0
5