یہ منظر سہانے یہ دلکش نظارہ
شہنشاہِ فاراں خدائی میں پیارا
سخی ہیں وہ دلبر وہ خیر الوریٰ ہیں
ملا بے کسوں کو نبی سے سہارا
معطر ہے اُن کے پسینے سے خوشبو
فلک کے ستارے لیں اُن سے اشارہ
جھکیں سر ادب سے خلائق کے اس جا
مدینہ لگے ہے درخشاں ستارا
مٹایا نبی نے تشدد جہاں سے
سکھایا جہاں کو محبت ہے چارہ
سلاموں کے گجرے خلائق سے اُن پر
درود اُن پہ خالق نے خود بھی اتارا
جو بدلی ہے قسمت اے محمود تیری
ہوا یوں کریمِ جہاں کا اشارہ

1
4

مرکزی خیال:
یہ نعتِ پاک حضور اکرم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں عقیدت، محبت اور گہرے لگاؤ کا ایک حسین نذرانہ ہے۔ اس میں آپ ﷺ کے بلند مرتبے، انسانیت پر آپ ﷺ کے احسانات، مدینہ منورہ کی عظمت اور آخر میں شاعر (محمود) کی طرف سے آپ ﷺ کی نظرِ کرم پر شکر گزاری کا اظہار کیا گیا ہے۔اشعار کا تشریحی خلاصہشانِ مصطفیٰ ﷺ اور محبوبیت (پہلا شعر):نعت کے آغاز میں کائنات کے دلکش اور سہانے مناظر کا ذکر ہے، جو آپ ﷺ کی آمد کی برکت سے روشن ہیں۔ آپ ﷺ کو "شہنشاہِ فاراں" (مکہ کا سلطان) اور کائنات کی سب سے پیاری ہستی قرار دیا گیا ہے۔بے کسوں کا سہارا (دوسرا شعر):آپ ﷺ کو "خیر الوریٰ" (مخلوقات میں سب سے بہترین) اور بے انتہا سخی بتایا گیا ہے۔ آپ ﷺ کی ذاتِ گرامی دنیا کے تمام بے سہاروں، غریبوں اور لاچاروں کے لیے واحد پناہ گاہ اور آسرا ہے۔خوشبو اور نورانیت (تیسرا شعر):یہ شعر آپ ﷺ کے معجزات اور جسمانی و روحانی پاکیزگی کی عکاسی کرتا ہے۔ آپ ﷺ کا پسینہ مبارک خوشبوؤں سے معطر ہے، اور آپ ﷺ کا مرتبہ اتنا بلند ہے کہ آسمان کے ستارے بھی آپ ﷺ کی ذات سے روشنی اور رہنمائی کی خیرات لیتے ہیں۔مدینہ منورہ کی عظمت (چوتھا شعر):مدینہ پاک کی شان بیان کی گئی ہے جہاں تمام مخلوقات ادب سے سر جھکاتی ہیں۔ مدینہ منورہ دنیا کے اندھیروں میں ایک چمکتے ہوئے روشن ستارے کی مانند دکھائی دیتا ہے۔امن اور محبت کا پیغام (پانچواں شعر):یہاں آپ ﷺ کے دنیا پر سماجی احسانات کا ذکر ہے۔ آپ ﷺ نے دنیا سے ظلم، ستم اور تشدد کا خاتمہ کیا اور بھٹکی ہوئی انسانیت کو سکھایا کہ نفرتوں کا واحد علاج صرف اور صرف محبت ہے۔درود و سلام کا نذرانہ (چھٹا شعر):اس شعر میں بتایا گیا ہے کہ جہاں ایک طرف پوری مخلوق آپ ﷺ کی بارگاہ میں سلام کے گجرے (نذرانے) پیش کرتی ہے، وہیں دوسری طرف خود خالقِ کائنات (اللہ تعالیٰ) بھی آپ ﷺ پر درود بھیجتا ہے۔مقطع اور شکر گزاری (ساتواں شعر):آخری شعر میں آپ نے اپنے تخلص (محمود) کا استعمال کرتے ہوئے ایک انتہائی عاجزانہ اور خوبصورت بات کہی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ میری قسمت کا بدلنا اور میری زندگی کا سنورنا کسی ذاتی کمال کی وجہ سے نہیں، بلکہ یہ سب دنیا کے سب سے سخی نبی ﷺ کی ایک نظرِ کرم اور اشارے کا نتیجہ ہے۔کلام کا مجموعی تاثراس نعت میں عقیدت، سکون اور والہانہ محبت کا رنگ نمایاں ہے۔ یہ کلام جہاں ایک طرف کائنات کی وسعتوں میں آپ ﷺ کی تعریف کرتا ہے، وہیں دوسری طرف دل کے جذبوں اور ذاتی شکر گزاری کو بھی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔

0