مطلع
یہ عشق بھی ٹھہرا کوئی واجب سا ادا ہونے کو
ہم جتنی مہلت مانگیں، اتنا ہی بڑھا ہونے کو
اک عمر کا حاصل ہے، جو سود سمیت لوٹیں
یہ قرضِ محبت ہے، ہر سانس فدا ہونے کو
کل تک جو مہلت تھی، وہ آج بھی کم ٹھہری
یہ وقت ساہوکار بنا، پل میں خفا ہونے کو
آئینے سے کہہ بیٹھے، ہم کون ہیں آخر اپنے
اک عکس ہی کافی تھا، سو ٹکڑوں میں بٹا ہونے کو
وہ ساتھ رہا ایسے جیسے دیوار پہ سایہ کوئی
اک دھوپ ذرا تیز ہوئی—اور بس جدا ہونے کو
اس جسم کے ویرانے میں اک شور بسا رہتا ہے
هر درد یہاں رہزن ہے، ہر خواب لُٹا ہونے کو
کھل کر کہہ دے خاکیؔ، کیا ظرفِ محبت ٹھہرا
اک بوند بھی گر جائے تو دریا ہے بہا ہونے کو

0
8