| ۱۔ [تعریفِ نو] — مطلع |
| یہ عشق بھی ٹھہرا کوئی واجب سا ادا ہونے کو |
| ہم جتنی مہلت مانگیں، اتنا ہی بڑھا ہونے کو |
| ۲۔ [قرض کا استعارہ] |
| اک عمر کا حاصل ہے، جو سود سمیت لوٹیں |
| یہ قرضِ محبت ہے، ہر سانس فدا ہونے کو |
| ۳۔ [وقت بطور سود] |
| کل تک جو مہلت تھی، وہ آج بھی کم ٹھہری |
| یہ وقت ساہوکار بنا، پل میں خفا ہونے کو |
| ۴۔ [خود سے مکالمہ] |
| آئینے سے کہہ بیٹھے، ہم کون ہیں آخر اپنے |
| اک عکس ہی کافی تھا، سو ٹکڑوں میں بٹا ہونے کو |
| ۵۔ [رشتہ بطور سایہ] |
| وہ ساتھ رہا ایسے جیسے دیوار پہ سایہ کوئی |
| اک دھوپ ذرا تیز ہوئی—اور بس جدا ہونے کو |
| ۶۔ [جسم بطور شہر] |
| اس جسم کے ویرانے میں اک شور بسا رہتا ہے |
| هر درد یہاں رہزن ہے، ہر خواب لُٹا ہونے کو |
| ۷۔ [ظرفِ محبت] — مقطع |
| کھل کر کہہ دے خاکیؔ، کیا ظرفِ محبت ٹھہرا |
| اک بوند بھی گر جائے تو دریا ہے بہا ہونے کو |
معلومات