حیا سے جھکی تو دعا بن گئی
خدا سے ملی تو ضیا بن گئی
جو خوفِ خدا میں ہمیشہ رہی
نظر روح کی وہ غذا بن گئی
چلی بے حیائی کے رستے پہ جب
وہ سارے بدن  کی سزا بن گئی
رہی غیر محرم سے محفوظ جو
شرافت کی وہ اک ردا بن گئی
وہ شفقت، محبت سے دیکھے اگر
نظر درد دل کی شفا بن گئی
عتیق آنکھ میں جو حیا آ گئی
وہ رحمت کی ٹھنڈی ہوا بن گئی

0
5