مقتل بھی نیا قتل کے آلے بھی نئے ہیں
جاں دینے جو آئے ہیں دِوانے بھی نئے ہیں
زردار کو ہر جرم کی ہوتی ہے اجازت
انصاف کے دنیا میں طریقے بھی نئے ہیں
انسان خدا بن گئے کچھ رزق لٹا کر
یہ قربِ قیامت ہے سو فتنے بھی نئے ہیں
حق بات مگر آج بھی ہے قابلِ تعزیر
آزادیِ اظہار کے دھوکے بھی نئے ہیں
کیوں بھوک سے مرتا ہے مرے شہر کا مفلس
حاکم کی سخاوت کے تو چرچے بھی نئے ہیں

4