نہ پوچھ اے دل کہ دنیا نے مری قیمت نہ جانی ہے
مری خاموشیوں میں بھی صدائے زندگانی ہے
جو حرفِ درد لکھے تھے جو آنسو لفظ کر ڈالے
وہی فردا کے انسانوں کے دل کی ترجمانی ہے
میں خاموشی میں پلتا تھا مگر خاموش کب تھا میں
مرے الفاظ میں پنہاں مرے دل کی کہانی ہے
نہ مانگا میں نے دنیا سے کبھی اپنے سفر کا حق
مری منزل فقط سچ کی صداقت کی نشانی ہے
جو ٹھوکر راہ میں آئی وہی ٹھہری سبق آخر
مری ہر ایک ناکامی میں اک فتحِ نہانی ہے
میں اپنے درد کو لے کر چراغِ راہ بن بیٹھا
مری تنہائیوں میں بھی خدا کی مہربانی ہے
یہ مت سمجھو کہ انساں مر کے مٹ جاتا ہے دنیا سے
خیالِ زندہ رہتا ہے یہی اس کی نشانی ہے
اگر جو قبرِ شاعر سے کبھی کوئی صدا آئے
تو کہنا ایک مردِ حق تھا جس کی یہ کہانی ہے
میں جب زندہ تھا دنیا نے مری آواز کم سمجھی
جو رخصت میں ہوا تو پھر مری آواز جانی ہے
نہ تاجِ زر کی خواہش تھی نہ شہرت کا کوئی ارماں
کہ انسانوں کے دل تک پہنچے اتنی سی کہانی ہے
کہ خود کو ڈھونڈتے ساگر زمانے سے گزر نکلا
مگر اس کی صدا میں اب بھی رنگِ جاودانی ہے

0
2