مطلع
ٹھنڈک ہے نورِ یار کی، جلنے لگا ہوں میں
سرچشمہءِ وصال میں ڈھلنے لگا ہوں میں
دلبر! ہوا کا جھونکا ہٹانے لگا حجاب
پردے کے اس سرور میں چلنے لگا ہوں میں
اک سوز ہے کہ رگ میں اترتا چلا گیا
آتش بنی ہے عشق تو، گھلنے لگا ہوں میں
اب میں نہیں رہا ہوں، مری ہستی مٹ گئی
اُس کے کرم سے خلد میں پلنے لگا ہوں میں
یادِ حبیب دل کو سکونِ ابد بنی
تاریکیِ حصار سے کھلنے لگا ہوں میں
اک جلوہءِ جمال نے بخشی ہے زندگی
زخموں کو چوم کر ہی نکھرنے لگا ہوں میں
اک آس ہے کہ ذات میں جگمگ ہے نور کی
ہر سمت اس کرن سے سنبھلنے لگا ہوں میں
یادِ حبیب ہی سے مرا دل سکون میں ہے
بزمِ جاوید میں ٹہلنے لگا ہوں میں
مقطع
خاکیؔ پکارتا ہے اسے شوقِ بندگی
اب عجز کے لباس میں ڈھلنے لگا ہوں میں

0
1
25
جناب جیلانی صاحب
زرا یہ بتایئے گا کہ اردو شعر و ادب کی روایات میں یہ روایت کب سے آئی کہ غزل کے ہر شعر کا ایک عنوان یا نام لکھا جائے ؟
شکریہ

0