| مطلع |
| ٹھنڈک ہے نورِ یار کی، جلنے لگا ہوں میں |
| سرچشمہءِ وصال میں ڈھلنے لگا ہوں میں |
| دلبر! ہوا کا جھونکا ہٹانے لگا حجاب |
| پردے کے اس سرور میں چلنے لگا ہوں میں |
| اک سوز ہے کہ رگ میں اترتا چلا گیا |
| آتش بنی ہے عشق تو، گھلنے لگا ہوں میں |
| اب میں نہیں رہا ہوں، مری ہستی مٹ گئی |
| اُس کے کرم سے خلد میں پلنے لگا ہوں میں |
| یادِ حبیب دل کو سکونِ ابد بنی |
| تاریکیِ حصار سے کھلنے لگا ہوں میں |
| اک جلوہءِ جمال نے بخشی ہے زندگی |
| زخموں کو چوم کر ہی نکھرنے لگا ہوں میں |
| اک آس ہے کہ ذات میں جگمگ ہے نور کی |
| ہر سمت اس کرن سے سنبھلنے لگا ہوں میں |
| یادِ حبیب ہی سے مرا دل سکون میں ہے |
| بزمِ جاوید میں ٹہلنے لگا ہوں میں |
| مقطع |
| خاکیؔ پکارتا ہے اسے شوقِ بندگی |
| اب عجز کے لباس میں ڈھلنے لگا ہوں میں |
معلومات