سرِ مژگاں تھکن ہے اور میں ہوں
عجب سی اک چبھن ہے اور میں ہوں
جدائی کا وہ لمحہ، وہ رفاقت
یہی بس اک جلن ہے اور میں ہوں
نہ کوئی ہم سخن ہے پاس میرے
مرا اپنا بدن ہے اور میں ہوں
ترا وہ دیکھنا، پھر بھول جانا
وہی دیوانہ پن ہے اور میں ہوں
تجھے پانے کی ضد میں خود کو کھونا
یہی اب بس لگن ہے اور میں ہوں
محبت کی کٹھن راہوں میں عادلؔ
وہ خالی سا گگن ہے اور میں ہوں

0
3