| سرِ مژگاں تھکن ہے اور میں ہوں |
| عجب سی اک چبھن ہے اور میں ہوں |
| جدائی کا وہ لمحہ، وہ رفاقت |
| یہی بس اک جلن ہے اور میں ہوں |
| نہ کوئی ہم سخن ہے پاس میرے |
| مرا اپنا بدن ہے اور میں ہوں |
| ترا وہ دیکھنا، پھر بھول جانا |
| وہی دیوانہ پن ہے اور میں ہوں |
| تجھے پانے کی ضد میں خود کو کھونا |
| یہی اب بس لگن ہے اور میں ہوں |
| محبت کی کٹھن راہوں میں عادلؔ |
| وہ خالی سا گگن ہے اور میں ہوں |
معلومات