کس سے اب عرضِ مدعا کیجے
شہر کا شہر ہے خفا، کیجے
ہم تو خود سے بھی اب نہیں ملتے
آپ سے مل کے بھی کیا کیجے
عشق کا روگ تو پرانا ہے
درد بڑھ جائے تو دعا کیجے
ہم نے سیکھی ہے ایک ہی تسبیح
جس سے ملیے اسے گلہ کیجے
دل کی بستی اجڑ ہی جانی ہے
کیوں نہ اس کو ابھی فنا کیجے
تیغ چلتی ہے بات بات پہ اب
ایسے ماحول میں کیا کیجے؟
اک تماشا ہے یہ حیاتِ عزیز
دیکھیے اور واہ وا کیجے
آپ کو تو ہے بے رخی کی لت
ہم بھی اب خود کو لاپتا کیجے
رخ بدلتا ہے روز ہی موسم
آپ کیوں فکرِ ناخدا کیجے
شاعری تو ہے خونِ دل کا نچوڑ
خون تھوکوں تو مرحبا کیجے

0
4