بے نور صبح ہے یہ جو ظلمت میں رات ہے
اشکوں کی بے بسی میں رواں جو حیات ہے
جگنو طلسم شوق ہے، مہرِ درون شب
سورج تو دن کے جھوٹے تکلف کی بات ہے
وہ کہہ رہے ہیں عقل ہی کُل ہے جہان کی
میں کہہ رہا ہوں عشق ہی کل کائنات ہے
سارا فریب چشم ہے گلشن نگاہ کو
پاؤں رکھیں جو دشت میں راہِ نجات ہے
زنجیر و تازیانے ہیں زنداں میں ساتھ ساتھ
عامر غرور عشق بھی اپنے ہی ساتھ ہے
عامر خان عامر

0
2