کونین میں نرالا اُن کا دیار ہے
دیتی جہاں کو زینت جس کی بہار ہے
رگ رگ کو حاصل اس جا گوناں سکون ہے
انعامِ مصطفیٰ کی جاری پھوار ہے
ہیں فیض عام اُن کے الطاف بیکراں
پُر کیف لمحے جس سے دائم قرار ہے
حاصل جہاں کو زینت صدقے حبیب کے
احسانِ مصطفیٰ کا مشکل شمار ہے
ہر آن رونقیں ہیں بابِ رسول پر
ہر کس پہ مہربانی جس کا شعار ہے
ہیں مومنیں کے داتا دلدارِ کبریا
خلقِ خدا میں جن کا اعلیٰ وقار ہے
آئے تمہیں بلاوہ محمود یار کا
تم کو ملا سہانہ یہ انتظار ہے

0
3