| جا اکیلے میں بیٹھ کر رولے |
| قلب کو آنسوؤں سے اب دھولے |
| ناخداؤں نے چھوڑ دی کشتی |
| اس لیے کھارہی ہے ہچکولے |
| بھائی دشمن بنا ہے بھائی کا |
| زہر رشتوں میں کس نے ہیں گھولے |
| جو کہو تم وہ مان جائیں ہم |
| بھائی اتنے بھی ہم نہیں بھولے |
| خوبصورت بہت ہے یہ دنیا |
| جو بھی دیکھے ہے اسکا من ڈولے |
| کتنا تنہا ہوں میں عدالت میں |
| کوئی تو میرے حق میں منہ کھولے |
| جرم طیب ہمارا بس یہ ہے |
| حق کے حق میں تھے بس ہمیں بولے |
معلومات