آنکھوں ہی آنکھوں میں ان سے بات ہوئی
دل کی زمیں پر چاہت کی برسات ہوئی
لوگ مگن ہیں ایسے اپنی دنیا میں
ہوش نہیں کب دن نکلا کب رات ہوئی
ہجر سزا ہے عشق میں پڑنے والوں کی
کس کو حاصل وصل کی ہے سوغات ہوئی
مرہم سے محروم رہا ہے زخمِ وفا
عشق کی بازی جیتی ہے یا مات ہوئی
ٹال سکے تقدیر کا لکھا کوئی بشر
اس پُتلے کی اتنی کب اوقات ہوئی
عادل ریاض کینیڈین

0
3