| ابھی خاموش ہیں لہریں کنارہ کون کرتا ہے |
| بھنور میں دیکھنا آخر سہارا کون کرتا ہے |
| بلا مقصد یہاں اب تو نہیں ملتی محبت بھی |
| کہ یک طرفہ محبت میں گزارا کون کرتا ہے |
| بڑے عامل ہیں جو لائیں مرا محبوب قدموں میں |
| نظر فرقت کہ ماروں کی اتارا کون کرتا ہے |
| محبت ہم نہیں مانیں گے اس شیریں بیانی کو |
| بنا حاجت کسی کو یوں پکارا کون کرتا ہے |
| کہ مقتل میں نہیں مجھ کو ستم گر سے ذرا مطلب |
| مجھے تو دیکھنا یہ ہے اشارہ کون کرتا ہے |
| توقع سعد دنیا سے نہیں مجھ کو کہ بس جس میں |
| بنا مشکل خدا کو اب پکارا کون کرتا ہے |
معلومات