غزل
لوگ بے حس بہت بولتے رہ گئے
چند حساس دِل سوچتے رہ گئے
زُلف بل کھا کے عارض پہ ڈستی رہی
دُور عشاق سب دیکھتے رہ گئے
مثلِ آہو تجسس رہا عمر بھر
دشتِ اِدراک میں دوڑتے رہ گئےَ
عرضِ حالِ جگر کی نہ فرصت ملی
لطفِ دیدار میں دیکھتے رہ گئے
بَن میں دادِ تماشا کی حسرت لئے
پنکھ پھیلائے ہم ناچتے رہ گئے
چشم و دل تھے اسیرِ ہوس اس قدر
مثل گدھ وہ بدن نوچتے رہ گئے
خسروِ وقت طوطی شہاب آپ کی
قَدر دانِ سخن ڈھونڈتے رہ گئے
شہاب احمد
۲۱ جولائی ۲۰۲۶
متدارک مثمن سالم
فاعِلن فاعِلن فاعِلن فاعِلن

0
24