| جیسے ویران سا مندر ہے کئی سالوں سے |
| میرے سینے میں تِرا گھر ہے کئی سالوں سے |
| تو گیا اور مری آنکھ نے جانا دیکھا |
| آنکھ میں نقش وہ منظر ہے کئی سالوں سے |
| ہے تِرے بعد مِرے دل کو لبھانے کے لئے |
| یہ ہواؤں میں جو صرصر ہے، کئی سالوں سے |
| ہے مِرا حال خِزاؤں میں گُلستاں کی طرح |
| دِل بیابان سراسر ہے کئی سالوں سے |
| اس طرح گھر میں کسی جا پہ پڑا رہتا ہوں |
| جیسے اک بیوہ کا زیور ہے کئی سالوں سے |
معلومات