جیسے ویران سا مندر ہے کئی سالوں سے
میرے سینے میں تِرا گھر ہے کئی سالوں سے
تو گیا اور مری آنکھ نے جانا دیکھا
آنکھ میں نقش وہ منظر ہے کئی سالوں سے
ہے تِرے بعد مِرے دل کو لبھانے کے لئے
یہ ہواؤں میں جو صرصر ہے، کئی سالوں سے
ہے مِرا حال خِزاؤں میں گُلستاں کی طرح
دِل بیابان سراسر ہے کئی سالوں سے
اس طرح گھر میں کسی جا پہ پڑا رہتا ہوں
جیسے اک بیوہ کا زیور ہے کئی سالوں سے

0
54