ادھڑ جائے جو اک بخیہ تو ہیئت ہی بدل جائے
لباسِ رشتہ ہائے خوں کی وقعت ہی بدل جائے
۔
مصور ہے وہ ایسا جس کی ہر تخلیق ہے شہکار
ذرا سا عضو یاں سے واں ہو مورت ہی بدل جائے
۔
اٹھائے رخ سے آنچل تو سیاہی شب کی چھٹ جائے
ہٹائے زلف تو مہ کی بھی قسمت ہی بدل جائے
۔
کھلیں گر قصہ ہائے خلوتِ مرشد مریدوں پر
نگاہوں سے وہ گر جائیں ، عقیدت ہی بدل جائے
۔
عجب ہے کیفیت اپنی مدثر مضطرب ہے دل
ملے کوئی تو پھر اندر کی حالت ہی بدل جائے

0
5