| گلہ ہے اسے، مجھ کو چاہت نہیں ہے |
| مگر اس کو میری ضرورت نہیں ہے |
| زمانے کو چھوڑا ہے اس کے لیے، پر |
| اسے مجھ سے تھوڑی بھی رغبت نہیں ہے |
| ہر اک بات پر روٹھنا اس نے سیکھا |
| وفا کی مگر اس کو عادت نہیں ہے |
| ہمیشہ منایا اسے جان و دل سے |
| مجھے روٹھنے کی سہولت نہیں ہے |
| ستم سہ کے بھی بس وہی چاہیے اب |
| کسی اور کی دل میں حسرت نہیں ہے |
معلومات