| عرش کے مسند نشیں پر رب کی پیہم رحمتیں |
| لامکاں کے اس مکیں پر رب کی پیہم رحمتیں |
| ۔ |
| اصلِ نورِ بوالبشر پر روز و شب بے حد سلام |
| ختمِ دورِ مرسلیں پر رب کی پیہم رحمتیں |
| ۔ |
| جس کے لہرانے سے بکھرے خوشبوئے گل ان کے اس |
| گیسوئے دل آفریں پر رب کی پیہم رحمتیں |
| ۔ |
| جن کے حضرت یوسف و داؤد بھی مشتاق تھے |
| ان رخ و نوری جبیں پر رب کی پیہم رحمتیں |
| ۔ |
| وہ زباں کونین میں جس کی نہیں کوئی مثال |
| اس زباں حق کی امیں پر رب کی پیہم رحمتیں |
| ۔ |
| لب کہ بکھرے جن سے موتی ، دانتوں سے نوری کرن |
| گفتگوئے دلنشیں پر رب کی پیہم رحمتیں |
| ۔ |
| وہ دلِ اقدس کہ اتری جس پہ خالق کی وحی |
| اس وحی کی جاگزیں پر رب کی پیہم رحمتیں |
| ۔ |
| ان کے ہاتھوں کی لطافت پر ہوں پیہم درود |
| زیبائے مرمریں پر رب کی پیہم رحمتیں |
| ۔ |
| جس کے پاؤں چومنے کو منتظر حور و ملک |
| اس حسینوں سےحسیں پر رب کی پیہم رحمتیں |
| ۔ |
| جس جگہ ہے وہ وجود اقدس سراپا معجزات |
| ہو مدثر اس زمیں پر رب کی پیہم رحمتیں |
معلومات