میں اس کے پیچھے ایسے چل پڑا ہوں
وہ اک مہتاب ہے، میں آئینہ ہوں
تو دریا ہے تو میں ساحل پہ گم تھا
ملن کی چاہ میں اب بہہ گیا ہوں
گلابی پھول جیسے تیرے عارض
میں ان رنگوں میں لفظوں میں بنا ہوں
کہیں مٹی کا پُتلا مٹ نہ جائے
میں اپنے آئینے کو دیکھتا ہوں
مری مٹی سے تیرا عکس چمکے
تری خوشبو سے میں مہکا ہوا ہوں
تو میری سوچ پر حاوی ہے ایسے
قلم تیرا ہے، میں تو لکھ رہا ہوں
مجھے آواز اب کوئی نہ دینا
میں رنج و غم سے آگے جا چکا ہوں
اتر کر آنکھ سے دل میں بسا ہے
میں اس کے واسطے ہی جی رہا ہوں

0
1