،کاتبِ وقت بتا چشمِ عطا ہے کہ نہیں
صبح روشن تو نہیں بعد صبا ہے کہ نہیں
دیکھنا یہ ہے کہ تقدیر کی تاریکیوں میں
کوئی جگنو کہیں مٹی کا دیا ہے کہ نہیں
بس یہی سوچ کے چپ چاپ ستم سہتے رہے
پتھروں کو بھی کوئی خوفِ خدا ہے کہ نہیں
دل کے جذبات کو پامال کیا کرتے ہیں
کوئی کہہ دے کہ یہ تشبیہ وفا ہے کہ نہیں
ساری دنیا بھی ہو گر ساتھ یہ دل دیکھے گا
میرے ہمدم تو مرے ساتھ کھڑا ہے کہ نہیں
ترک الفت کا ارادہ ہے تو یہ دیکھو ذرا
ایک بھی شخص کہیں اس سے برا ہے کہ نہیں

0
5