| سبھی ہوا مرا گریہ قبول ہو نہ سکا |
| کرم بھی جیسے عطا ہے اصول ہو نہ سکا |
| میں عمر بھر تری رحمت کا منتظر ہی رہا |
| تری جناب سے جس کا نزول ہو نہ سکا |
| ترے خیال میں گو ہوش کھوئے بیٹھے ہیں |
| کبھی بھی غلبۂ نوم و ذہول ہو نہ سکا |
| ترے فراق کے دکھ درد بھی نرالے ہیں |
| کہ دل شکستہ بھی ہو کر ملول ہو نہ سکا |
| میں دیکھ بھال کہ دنیا کو چھوڑ دیتا ہوں |
| میں بار بار ظلوم و جہول ہو نہ سکا |
| یہ سوچتا ہوں کہ شائد یہی غنیمت تھی |
| جو میرا نامۂ رنجش وصول ہو نہ سکا |
| اب آسمان پہ تنہا اداس ہے انجم |
| سزا یہی ہے جو قدموں کی دھول ہو نہ سکا |
معلومات