کیا شانِ مصطفائی کون و مکاں ہیں اُن کے
لولاک شان اُن کی دونوں جہاں ہیں اُن کے
یہ جانِ جاں کریمی دلدار یزداں بھی ہیں
دانائے خلقِ رحمٰں سارے زماں ہیں اُن کے
سالارِ دین ہادی محشر کے بھی ہیں دولہا
جو حشر میں لگیں گے وہ سائباں ہیں اُن کے
دن رات کے تغیر گردوں کی گردشیں سب
شمس و قمر ستارے بھی تشنگاں ہیں اُن کے
سب انبیائے سابق لائے خبر تھے اُن کی
ملتے جہانِ کن میں روشن نشاں ہیں اُن کے
ساغر جمالِ حق کے دربارِ مصطفیٰ دے
کوثر سے جام سارے ملتے رواں ہیں اُن کے
گلشن میں رونقیں سب اُن کے ورود سے ہیں
محمود فیض سب پر رہتے عیاں ہیں اُن کے

0
2