| نسیمِ صبح نے چھیڑا گلوں کا سلسلہ پھر سے |
| کھلا ہر شاخ پر رنگِ وفا کا مرحلہ پھر سے |
| فضائے دشت میں مہکی ہوئی مٹی نے یہ پوچھا |
| کہاں سے لوٹ آیا ہے دلوں کا قافلہ پھر سے |
| ابھی شبنم نے پتّوں پر لکھی تھی صبح کی تحریر |
| ابھی سورج نے بوسیدہ کیا ہر حوصلہ پھر سے |
| کلی نے مسکرا کر تتلیوں کو راز یہ بخشا |
| محبت ہی بناتی ہے چمن کو دلربا پھر سے |
| نہ دولت کی طلب دل میں، نہ شہرت کی ہوس جاگی |
| محبت نے بنایا آدمی کو باوفا پھر سے |
| پرندے لوٹ آئے اپنے اپنے آشیانوں میں |
| افق پر شام نے باندھا سنہرا قافلہ پھر سے |
| اسی امید پر خالدؔ جلا ڈالے ہیں سب دفتر |
| لکھے تقدیر شاید اب کوئی تو فیصلہ پھر سے |
معلومات