نسیمِ صبح نے چھیڑا گلوں کا سلسلہ پھر سے
کھلا ہر شاخ پر رنگِ وفا کا مرحلہ پھر سے
فضائے دشت میں مہکی ہوئی مٹی نے یہ پوچھا
کہاں سے لوٹ آیا ہے دلوں کا قافلہ پھر سے
ابھی شبنم نے پتّوں پر لکھی تھی صبح کی تحریر
ابھی سورج نے بوسیدہ کیا ہر حوصلہ پھر سے
کلی نے مسکرا کر تتلیوں کو راز یہ بخشا
محبت ہی بناتی ہے چمن کو دلربا پھر سے
نہ دولت کی طلب دل میں، نہ شہرت کی ہوس جاگی
محبت نے بنایا آدمی کو باوفا پھر سے
پرندے لوٹ آئے اپنے اپنے آشیانوں میں
افق پر شام نے باندھا سنہرا قافلہ پھر سے
اسی امید پر خالدؔ جلا ڈالے ہیں سب دفتر
لکھے تقدیر شاید اب کوئی تو فیصلہ پھر سے

0
21