بڑی مصطفیٰ کی حسیں یاد ہے
خوشی کے ہیں ڈنکے یہ میلاد ہے
حبیبِ خدا کا ذکر ہے عُلیٰ
سدا جس سے دارین دل شاد ہے
جو ذکرِ نبی وردِ کونین ہے
یہی نبضِ ہستی میں فریاد ہے
سکونِ دروں ہے خیالِ نبی
مدینے سے پیاری چلے باد ہے
وصالِ نبی جس کو حاصل ہوا
وہ من فکرِ فردا سے آزاد ہے
جو دل عشقِ جاں میں فناہ ہو گیا
ملی کبریا سے اُسے داد ہے
ہے محمود جوہر درودِ نبی
جو مومن کو رکھتا بڑا شاد ہے

0
4