ہماری عمر تھوڑی رہ گئی ہے
تمنا اک ادھوری رہ گئی ہے
رہے ہیں منتظر ہم اس کے برسوں
ابھی لمحوں کی دوری رہ گئی ہے
سنے گا کلمہ ۓ حق شاہ کیسے
یہاں بس جی حضوری رہ گئی ہے
برا دل کا نہیں ہوں میرے بھائی
ذرا اپنوں سے دوری رہ گئی ہے
ہمیں فریاد کر لینے دو اب تو
یہی اک شے ضروری رہ گئی ہے

0
1