یہ من ہے ساقی آس لئے
اس ہجر میں آقا کون جئے
وہ فیض کے جام جو نوری ہیں
ہو کرم یہ فدوی در پہ پئے
سب راز نیاز تو جانے سجن
نہیں کام قدر کے میں نے کئے
یہ نام ہے پونچی ہاتھ پیا
ہر سانس ہو ہادی تیرے لئے
ہو لبوں کی زینت مدحتِ جاں
اس یاد کے چمکیں دل میں دیئے
توصیف ثنا ہو ذکر شہا
ہوں قالِ دہر سے ہونٹ سئے
محمود ہے جینا اُن کے لئے
یہ دل نے ہیں پکے وعدے کئے

1
5
مختصر مگر جامع خلاصہ:
شاعر اپنے دل کو ساقیٔ کوثر ﷺ کے فیض کا محتاج بتاتا ہے اور ہجرِ رسول ﷺ کو ناقابلِ برداشت قرار دیتا ہے۔
وہ درِ مصطفیٰ ﷺ سے جامِ فیض، محبت اور معرفت کی طلب کرتا ہے۔
اپنے اعمال کی کمی اور عجز کا اعتراف کر کے عطائے نبوی پر امید رکھتا ہے۔
اسمِ محمد ﷺ کو زندگی کا سہارا بنا کر ہر سانس کو ذکر و درود کے لیے وقف کرنے کا عہد کرتا ہے۔
نعت و مدحت کو دل کی روشنی اور روح کی غذا قرار دیتا ہے۔
دنیاوی کلام ترک کر کے صرف ذکرِ شہِ کونین ﷺ اختیار کرنے کی تمنا ظاہر کرتا ہے۔
آخر میں اعلان کرتا ہے کہ اس کی زندگی، محبت، اور وفاداری سب حضور ﷺ کے لیے ہے۔

0