دیں جان و دل کو راحت نغمے حضور کے
لمحات خاص ان میں کیف و سرور کے
کتنی حسیں ہیں باتیں بی بی کے چاند کی
جن سے ہیں جامِ وحدت امت کو پور کے
یادِ نبی سے سینے رہتے ہیں ضوفشاں
کیسے ملے خدا سے فانوس نور کے
نامِ نبی سے من کا آنگن ہے باغ باغ
باراں ہیں رحمتوں کے یا جلوے طور کے
فریاد ہے خزیں کی آقا کریم سے
پردے ہوں تاباں سارے میرے شعور کے
آؤں کریم در پر منزل مدینہ ہو
فارغ شعور دیکھوں حور و قصور سے
محمود رفعتیں دیں الطافِ مصطفیٰ
کونین قدموں نیچے ساری حضور کے

1