| وہ ایک شخص جو برسوں سے میرے اندر ہے |
| اسے تلاش ہے جس کی کوئی پیمبر ہے |
| میں کیسے ڈھونڈتا اس کو کہ تیری دنیا پر |
| ہے اس کا قبضہ مقدّر کا جو سکندر ہے |
| عجیب راز ہے اس زندگی کے صحرا میں |
| جو پیاس بانٹ رہا ہے وہی سمندر ہے |
| کسی کے درد کو اپنا سمجھ کے دیکھ ذرا |
| ترے وجود کے اندر ہی ایک مندر ہے |
| میں اپنے زخم چھپاتا رہا سدا جس سے |
| وہ جس کے پاس شفا ہے مرا ستم گر ہے |
| یہ کس مقام پہ لے آئی جستجو مجھ کو |
| کہ اب سکوت بھی پیغام ہی کا مظہر ہے |
| غرورِ عقل نے ہر راز پر اٹھائے سوال |
| جنوں کی آنکھ میں دکھتا کوئی مدبّر ہے |
| میں اپنے آپ سے گزرا تو یہ کھلا مجھ پر |
| بپا ہر ایک کے سینے میں ایک محشر ہے |
| سفر تمام ہوا پھر بھی تشنگی نہ گئی |
| یہی تو عشق کی منزل مرا مقدر ہے |
| ذرا سا جھانک کے دل میں بھی دیکھ لے طارِق |
| خدا کی جستجو کا راستہ تو اندر ہے |
معلومات