یہ کیسا شہر ہے، سب لوگ مسکراتے ہیں
کسی کے زخم پہ بھی قہقہے لگاتے ہیں
عجیب لوگ ہیں، سچ بولنے سے ڈرتے ہیں
مگر جو جھوٹ ہو، اس کو یقیں بناتے ہیں
یہاں شریف وہی ہے جو چپ رہے صاحب
جو سچ کہے، اسے آداب بھی سکھاتے ہیں
یہاں پہ قتل بھی ہوتا ہے احتیاط کے ساتھ
پھر اس کے بعد سبھی تعزیت کو آتے ہیں
وہ لوگ جن کو سلیقہ تھا گفتگو کا بہت
کسی کو مار کے بھی معذرت جتاتے ہیں
وہ جن کے ہاتھ میں انصاف کا ترازو ہے
وہ اپنے حق میں ہی ہر فیصلہ سناتے ہیں
یہاں پہ سچ کی گواہی بھی ایک پیشہ ہے
گواہ اپنے بیانوں کے دام پاتے ہیں
وہ ایک شخص جو کل بھوک سے مرا تھا یہاں
اسی کے نام پہ اب دعوتیں اڑاتے ہیں
یہاں پہ لوگ شہیدوں کو یاد رکھتے ہیں
مگر جو زندہ ہیں، ان کو ہی بھول جاتے ہیں
کسی کے قتل پہ قاتل سے کم نہیں وہ لوگ
جو دیکھتے ہیں تماشا، نظر چراتے ہیں

0
4