| ہے یہ شعورِ عالمِ ایجاد ناتمام |
| اب تک ہوا نہیں سفرِ ارتقا تمام |
| ۔ |
| ہر نفس ہی چکھے گا اجل تیرا ذائقہ |
| نابود و بود کا ہے یہی فلسفہ تمام |
| ۔ |
| کچھ غم نہ کر تماشۂ دم ہیں یہ رات دن |
| جس دم رکا یہ دم تو تماشا ہوا تمام |
| ۔ |
| شاید کہ تھے یہ رہبر و رہزن ملے ہوئے |
| سورج کی روشنی میں لٹا قافلہ تمام |
| ۔ |
| آخر یہ کیوں دلوں میں مدثر ہیں نفرتیں |
| جب رنگِ خونِ ریشۂ دل ایک سا تمام |
معلومات