| میں دوستی کا فرض نبھاتا چلا گیا |
| میں دشمنوں سے ہاتھ ملاتا چلا گیا |
| جو ہنس رہا تھا اس سے نہ پوچھا کہ غم ہے کیا |
| جو رو رہا تھا اس کو ہنساتا چلا گیا |
| ہر اک قدم پہ مجھ کو یہاں ٹھوکریں لگیں |
| رستے پہ میں چراغ جلاتا چلا گیا |
| گھر میں لگی تھی آگ جو مجھ سے نہ بجھ سکی |
| لوگوں کے گھر کی آگ بجھاتا چلا گیا |
| جب یہ سمجھ لیا کہ شکایت فضول ہے |
| خود سے بھی اپنے زخم چھپاتا چلا گیا |
| رشتے زہر تھے ان سے کبھی بھاگ نہ سکا |
| شاہدؔ میں اپنی ذات مٹاتا چلا گیا |
معلومات