اپنی غلطی قبول کر لی ہے
ہاں محبت کی بھول کر لی ہے
شعر سن کر وہ مسکراتے ہیں
داد ہم نے وصول کر لی ہے
لوگ کہتے ہیں اس کو پانے کی
جرأت ہم نے فضول کر لی ہے
آنکھ نے ان کہی کہانی پڑھی
دل نے دستک قبول کر لی ہے
آنکھ ملتی نہیں ملانے سے
دل نے ایسی کیا بھول کر لی ہے

0
3