ہوا کے دوش پہ جو دُکھ ہیں اس دیار کے ہیں
یہ سارے زخم تو آشفتہ روزگار کے ہیں
بکھر گئی ہے یہاں روشنی بھی مفلس کی
یہ جگمگاتے دیے طاقِ اقتدار کے ہیں
مکان سب کے لیے ہیں مگر زمین نہیں
یہ کھیل سارے یہیں کے، یہیں کے کار کے ہیں
ملا ہے کیا ہمیں اس دہر کی کمائی سے؟
حسابِ شب کے تگ و دو تو اشکبار کے ہیں
ہر ایک موڑ پہ مہنگی ہے سانس کی قیمت
یہ دامِ زیست تو اب دائرہ غبار کے ہیں
شکستہ ہاتھ ہیں، لب پر فغاں کی لرزش ہے
یہ مجمعے تو کسی بے کساں کی ہار کے ہیں
فصیلِ شہر پہ بیٹھے ہیں جو نگہباں اب
یہ سب ستون تو باطل کی رہ گزار کے ہیں
عدو کی بات بھی قانون بن گئی آخر
یہ فیصلے تو تماشائی عدل و یار کے ہیں
ہمیں بھی بخش دے کوئی تو روشنی یا رب
یہ راستے تو تری راہ کے غبار کے ہیں
ہر ایک سمت اندھیرا ہے اور تنہائی
یہ دن جو کاٹے ہیں سب تیرے انتظار کے ہیں
کیا ہی کہیے زمانے کی بے وفائی کا
یہ سب ستم تو اسی گردشِ مزار کے ہیں

0
4