ہوائے شب مری آنکھوں میں اک خمار رکھے
نئی رتوں کی تمنا بھی بے قرار رکھے
جدائیاں بھی وہ کتنے سلیقے سے مانگے
عجیب طرزِ تعلق میں بھی وقار رکھے
کہیں یہ ہجر مجھے مار ہی نہ ڈالے، سو
وہ میری ذات کے چاروں طرف حصار رکھے
محبتوں میں بھی اس کا مزاج تاجر سا
وہ ہر ستم کا مِرے دل پہ اک شمار رکھے
فرار ہونے کے رستے تمام بند کیے
جو زخم کھا کے گرے وہ بچا شکار رکھے
مِرا وجود ہی اس کی خوشی کا ضامن ہے
وگرنہ کون کسی پر یوں جاں نثار رکھے
عجب نہیں کہ مسافر پلٹ کے آ جائے
خدا اسی کی گلی میں مرا دیار رکھے
خزاں رسیدہ گلستاں کے زرد پتوں میں
یہ آس ہے کہ کوئی شاخ پر بہار رکھے
یہ شہرِ مردہ پرستاں ہے دوستو، یہ تو
بجھے چراغ پہ پھولوں کا اک مزار رکھے
اداس رات ہے، خاموشیاں ڈراتی ہیں
کوئی تو ہو جو خلا میں مری پکار رکھے

0
1