یہ فلک یہ دھوپ چھاؤں ، یہ زمین یہ زمانہ
مرے رب کی قدرتوں کا، ہے حسین شاخسانہ
کبھی تنہا دل تھا پر اب، کئی لاکھ مہرباں ہیں
ترے عشق میں مبارک، رہ و رسم مُشفِقانہ
یہ پیامِ باد نو ہے مری آبرو اسی سے
جو دلوں کو فتح کر لے وہ نظر ہے فاتحانہ
تجھے بغض و کینہ سے کیوں نہیں عار پیارے دشمن
ترا دل حسد میں جل کر، ہے تجھی پہ تازیانہ
کسی اور دل میں اتنی، ہے سکت کہاں کہ عادل
جسے ہو جنونِ خدمت، ملے روح عاشقانہ

0
3