غیروں کو بھی نوازیں فیضان یہ غنی کے
تحفے ہیں کبریا سے الطاف میں سخی کے
دریائے رحمتوں کا کوئی کہاں کنارہ
ہستی کے ادنیٰ پر بھی انعام سروری کے
رب کا ارادہ کن تھا اعیانِ ثابتہ میں
آیا یہ حکم لیکن انوار میں نبی کے
یہ طول و عرضِ ہستی ان میں چہل پہل یوں
علت ہیں زینتوں کی الطاف رہبری کے
کونین میں حسن یوں اُن کے ورود سے ہے
رونق کریں فزوں جو ہیں گام ہاشمی کے
مبدا معاد ہستی علمِ نبی میں آیا
اقوالِ مصطفیٰ ہیں انوار آگہی کے
محمود خلق اولیٰ نورِ محمدی ہے
جانے خدا حقائق اُس تارِ زندگی کے

0
1
4
مجموعی خلاصہ
یہ پوری غزل درج ذیل صوفی تصورات کے گرد گھومتی ہے:
رحمتِ عالم ﷺ — سب کے لیے فیض
نورِ محمدی ﷺ — تخلیق کی بنیاد
حقیقتِ محمدیہ — کائنات کا اصل
فیض و ہدایت — کائناتی نظم کا سبب
علمِ نبوی ﷺ — آغاز و انجام کا احاطہ

0