کیا نارِ جہنم سے رکھا تم نے ہے یارانہ؟
ہر روز تراشتے ہو اک جھوٹ کا افسانہ!
اصحابِ پیمبرؐ تو ستاروں کے مماثل ہیں
ان نفوسِ مقدس کا ہر اہلِ یقیں دیوانہ
حق بات کو جھٹلا کر باطل کی طرف جانا
زیبا نہیں بنتا ہے یہ شیوۂ رندانہ
جس شخص کے سینے میں بغضِ سلفِ حق ہو
ہو جائے گا اک روز وہ اپنوں سے بھی بیگانہ
طوفانِ ضلالت میں جو کشتی کو ڈبوتے ہیں
بن جاتا ہے پل بھر میں وہ گلشن بھی ویرانہ
تعظیمِ صحابہؓ ہے اساسِ دل و دیں اپنی
محفوظ اسی سے ہے امت کا یہ کاشانہ
کہتا ہے یہی تجھ کو ناصح بن کر اب ہمراز
توبہ کی طرف آؤ، چھوڑو یہ فریبانہ

0
1
7
اس سائٹ پر اس طرح کی چیز شائع نہیں کی جا سکتی۔ اس کو اپنی ڈائری تک محدود رکھیں، ورنہ اس کو ڈیلیٹ کر دیا جائے گا۔ گزارش ہے کہ سائٹ کے اصولوں کی پاسداری کریں۔

0