| چاند تارے بنا رہا ہوں مَیں |
| یوں سیاہی مٹا رہا ہوں مَیں |
| اپنے بچوں کے واسطے روشن |
| گھر کا رستہ سجا رہا ہوں مَیں |
| پیاس علم و ہنر کی مٹ جائے |
| نئے مکتب بنا رہا ہوں مَیں |
| علم و دانش شعور کی باتیں |
| نسلِ نو کو بتا رہا ہوں مَیں |
| لوگ جاویدؔ! خوش رہیں سارے |
| ایسا اِک گیت گا رہا ہوں مَیں |
معلومات