وہ تیری نگاہوں کی حیا یاد ہے اب تک
وہ تیری شرارت کی ادا یاد ہے اب تک
بارش میں مری سمت وہ چھتری کو جھکانا
وہ بھیگتے ہونٹوں کی دعا یاد ہے اب تک
اک بھیڑ میں آہستہ مرا نام پکارا
کانوں میں وہ گھلتی سی صدا یاد ہے اب تک
وہ چائے کی پیالی، وہ ترا بات بدلنا
آنکھوں سے جھلکتی وہ رضا یاد ہے اب تک
برسوں سے نہ کوئی خبر آئی نہ ملاقات
پھر بھی وہ تری پہلی وفا یاد ہے اب تک
شاہدؔ وہ بچھڑتے ہوئے مڑ کر ترا ہنسنا
اس ایک نظر کی وہ ضیا یاد ہے اب تک

0
3