کہو مت کہ ہم کو محبت نہیں ہے
تمہیں ہی ہماری ضرورت نہیں ہے
نکالا ہے ہم نے انہیں اپنے دل سے
جو کہتے تھے، تم کو عقیدت نہیں ہے
یونہی بات بے بات تم ہم سے بگڑے
ذرا تم کو پاسِ رفاقت نہیں ہے
چلیں آئے ہم جاں ہتھیلی پہ رکھ کر
ابھی بھی تمھیں ہم سے رغبت نہیں ہے
برا لاکھ سمجھو مرے دل کو لیکن
کسی اور کی اس میں چاہت نہیں ہے
کبھی غیر سے بات دل کی نہ کہنا
گزارش ہے میری، نصیحت نہیں ہے

0
3