| کہو مت کہ ہم کو محبت نہیں ہے |
| تمہیں ہی ہماری ضرورت نہیں ہے |
| نکالا ہے ہم نے انہیں اپنے دل سے |
| جو کہتے تھے، تم کو عقیدت نہیں ہے |
| یونہی بات بے بات تم ہم سے بگڑے |
| ذرا تم کو پاسِ رفاقت نہیں ہے |
| چلیں آئے ہم جاں ہتھیلی پہ رکھ کر |
| ابھی بھی تمھیں ہم سے رغبت نہیں ہے |
| برا لاکھ سمجھو مرے دل کو لیکن |
| کسی اور کی اس میں چاہت نہیں ہے |
| کبھی غیر سے بات دل کی نہ کہنا |
| گزارش ہے میری، نصیحت نہیں ہے |
معلومات