نہیں ملتا اسے ویزا جہانِ عشق و مستی کا
کہاں اس کا بسیرا ہو جلیں پر کیف کے جس جا
شکارِ چشمِ ساقی کو خرد سے دور کا ناتا
چراغِ رہ گزر ہے یہ کہاں جانے دروں کیسا

2
10
ذیل میں **ہر مصرع کا مفصل بیان پیش کیا جا رہا ہے، تاکہ مفہوم کی گہرائی پوری طرح واضح ہو جائے:

**نہیں ملتا اسے ویزا جہانِ عشق و مستی کا**
یہاں شاعر کہتا ہے کہ جو شخص عقل پرستی یا ظاہری حساب میں الجھا ہوا ہے، **اسے عشق اور مستی کی دنیا میں داخلے کی اجازت نہیں ملتی**۔
عشق کی راہ دلیل یا اجازت نامے سے نہیں، بلکہ خود سپردگی سے کھلتی ہے۔
**کہاں اس کا بسیرا ہو جلیں پر کیف کے جس جا**
**تشریح:**
جو شخص عشق کی دنیا میں داخل ہی نہ ہو سکے، **وہ اُن پرکیف راہوں پر کیسے ٹھہر سکتا ہے** جو صرف اہلِ عشق کے لیے ہیں۔
یہاں *بسیرا* روحانی سکون اور قلبی قرار کا استعارہ ہے۔
**شکارِ چشمِ ساقی کو خرد سے دور کا ناتا**
جو شخص **ساقی کی نگاہ کا شکار** ہو جائے، یعنی جس پر عشق کی نظر پڑ جائے،
اس کا **عقل و منطق سے کوئی گہرا تعلق باقی نہیں رہتا**۔
یہاں عقل کی نفی نہیں، بلکہ عشق کی بالادستی بیان کی گئی ہے۔
**چراغِ رہ گزر ہے یہ کہاں جانے دروں کیسا**
عقل کو یہاں **چراغِ رہ گزر** کہا گیا ہے، یعنی راستے کی حد تک رہنمائی کرنے والی روشنی۔
لیکن **باطن کی کیفیات، عشق کے اسرار اور روح کی گہرائی** کو عقل نہیں جان سکتی۔

### **خلاصۂ مفہوم (مختصر):**
یہ اشعار اس حقیقت کو بیان کرتے ہیں کہ
* عشق کی دنیا عقل کی سرحد سے آگے ہے
* عقل راستہ دکھا سکتی ہے، منزل نہیں
* باطنی سرشاری، مستی اور معرفت صرف عشق اور نگاہِ ساقی سے نصیب ہوتی ہے


0
عمدہ 🌹

0