| نہیں ملتا اسے ویزا جہانِ عشق و مستی کا |
| کہاں اس کا بسیرا ہو جلیں پر کیف کے جس جا |
| شکارِ چشمِ ساقی کو خرد سے دور کا ناتا |
| چراغِ رہ گزر ہے یہ کہاں جانے دروں کیسا |
| نہیں ملتا اسے ویزا جہانِ عشق و مستی کا |
| کہاں اس کا بسیرا ہو جلیں پر کیف کے جس جا |
| شکارِ چشمِ ساقی کو خرد سے دور کا ناتا |
| چراغِ رہ گزر ہے یہ کہاں جانے دروں کیسا |
معلومات