دامن پہ تو جو میرے گر اک نگاہ ڈالے
کر لے تو چاک دل کو مجھ کو گلے لگا لے
اس آنکھ میں نمی ہے نا دل میں کوئی نرمی
بس نام کے ہیں آخر آہ و فغاں یہ نالے
صیاد کو چمن میں آنے نہ دیجِۓ گا
بلبل یہ پھول سارے ہیں آپ کے حوالے
اس دشت کے سفر میں ہم کو ہوے ہیں حاصل
درد و الم کے ساۓ اور پاؤں کے یہ چھالے
جس سمت ہم چلے تھے وہ سمت بھی عجب تھی
پوچھو نہ کیسے ہم نے اپنے قدم سنبھالے
ملتا نہیں ترنم مطرب کے زیر و بم میں
مجھ کو نہیں لبھاتے اس بزم کے اجالے
لگتی نہیں سہانی کوئی عشق کی کہانی
اب قیس وہ کہاں ہے لیلیٰ کو جو اڑالے
پاکیزگیِٕ شبنم آبِ رواں کے جیسی
کس کی مجال ہے جو آکر اسے چرالے
تکمیل پاۓ حسرت کچھ اس طرح سے میری
بارش کی بوند جیسے اپنا سفر نکالے
جس شے کو آپ بخشے پاکیزگی الٰہی
اس شے میں عیب کوئی کیوں کر بھلا نکالے
یہ ہستیوں کے میلے یہ پستیوں کے ریلے
عشیار ہیں جہاں کے یہ رنگ سب نرالے

0
1