جب گزرتے ہیں دل کو مسلتے ہوئے
وہ نہیں دیکھتے مڑ کے چلتے ہوئے
جب کہا "اک ذرا سا رکو تو سہی"
دیکھیے ان کے تیور بدلتے ہوئے
ہم گرے تو کئی بار رستے میں، پر
تجربہ ہی تو پایا سنبھلتے ہوئے
ہم نے چاہا تھا جگنو بنے دل، مگر
شمع سا جل رہا ہے پگھلتے ہوئے
اس کے جانے پہ تڑپا ہے یوں میرا دل
روح جیسے بدن سے نکلتے ہوئے
مانگ لو رب سے، سنتا ہے سب کی وہی
ہم نے دیکھا بلاؤں کو ٹلتے ہوئے
یہ جہاں تو ہے فانی یہاں سے گئے
ہاتھ نمرود، فرعون ملتے ہوئے

0
5