| وہ آ گیا ہے کئی خواب ساتھ لائے ہوئے |
| ہم اس کو دیکھ رہے ہیں نگاہ اٹھائے ہوئے |
| کسی نے پوچھ لیا حال تو یہ یاد آیا |
| کہ ہم بھی پھرتے ہیں سینے میں غم چھپائے ہوئے |
| وہ روٹھ کر پھر اچانک ہی مسکرانے لگا |
| ہمیں وہ دیکھ رہا تھا نظر چرائے ہوئے |
| وہ اجنبی تھا مرا حال جانتا بھی نہ تھا |
| وہ پاس آ کے ملا مجھ سے مسکرائے ہوئے |
| پرانے گھر کی وہ دیوار اب بھی ویسی تھی |
| وہی نشان تھے دیوار نے سنبھالے ہوئے |
| ملے جو پھر کبھی شاہدؔ وہ شخص راہوں میں |
| ملیں گے اس سے پرانے گلے بھلائے ہوئے |
معلومات