کونین میں زینت ہے سرکار کے آنے سے
یہ غایتِ خالق ہے دارین سجانے سے
محبوبِ خدا سے ہیں سب راحتیں ہستی میں
یہ بات سمجھ آئے سر در پہ جھکانے سے
تسکینِ دل و جاں ہیں سرکار کے کُل کہنے
ہیں خوشیاں دل و جاں میں ہر بات سنانے سے
ہر سمت مدینے سے باران کرم آئیں
دارین میں رونق ہے آقا کے بہانے سے
ہر چیز فروزاں ہے انوارِ مدینہ ہیں
تھے ظلم یہاں کتنے لو خبریں زمانے سے
بارانِ کرم ہر جا سرکار کے کوچے میں
کیا لطفِ عنایت ہے ان ابر کے چھانے سے
سرکار کے ناتے سے محمود بھلے مانگیں
ہر ایک کو دیتے ہیں مولا کے خزانے سے

0
3