(مطلع)
یہ چراغِ شوق دل کی لو بڑھا دیتے ہیں
اہلِ الفت زخم پر بھی گل کھلا دیتے ہیں
لوگ کیسے کیسے فتنے ہی بھڑکا دیتے ہیں
دل وفا سے لایعنی ہوں تو بھٹکا دیتے ہیں
ضبط کے رشتے بھلا کب تک نبھتے ہیں یہاں
شوق کے جھونکے تو ہر بندھن ہلا دیتے ہیں
ہے کہاں جذبہ وفا کا، اب بغاوت ہے یہاں
جذبے ہی تو دل کی مٹی کو جِلا دیتے ہیں
آرزو کی شوخیوں سے زخم جب سلجھا سکیں
خواب تب خاموش لب کو بھی ہلا دیتے ہیں
جوشِ الفت نے دیا ہے گرچہ غم نادیدہ سا
ہم مگر ہر موڑ پر شمع جلا دیتے ہیں
ہم اشاروں میں ہی خوابوں کو سجا لیتے ہیں خود
دل کی تپش سے نیا شعلہ بھڑکا دیتے ہیں
بات کرنی ہو جو دل کی، دیر کیسی اے رفیق
اہلِ دل تو درد کو بھی اب سہلا دیتے ہیں
بستیاں ہی بستیاں بنتی رہیں گی ہر طرف
اہلِ دل تو ہر کٹھن رستہ بنا دیتے ہیں
(مقطع)
ذکرِ الفت ہو جہاں، "خاکی" وہاں موجود ہے
دشتِ فرقت میں بھی ہم آنسو چمکا دیتے ہیں

0
20