1. جذبۂ الفت (مطلع)
یہ چراغِ شوق دل کی لو بڑھا دیتے ہیں
اہلِ الفت زخم پر بھی گل کھلا دیتے ہیں
2. بے وفائی کا رستہ
لوگ کیسے کیسے فتنے ہی بھڑکا دیتے ہیں
دل وفا سے لایعنی ہوں تو بھٹکا دیتے ہیں
3. ضبط اور شوق
ضبط کے رشتے بھلا کب تک نبھتے ہیں یہاں
شوق کے جھونکے تو ہر بندھن ہلا دیتے ہیں
4. جذبۂ بغاوت
ہے کہاں جذبہ وفا کا، اب بغاوت ہے یہاں
جذبے ہی تو دل کی مٹی کو جِلا دیتے ہیں
5. خاموشی اور خواب
آرزو کی شوخیوں سے زخم جب سلجھا سکیں
خواب تب خاموش لب کو بھی ہلا دیتے ہیں
6. عزم و ہمت
جوشِ الفت نے دیا ہے گرچہ غم نادیدہ سا
ہم مگر ہر موڑ پر شمع جلا دیتے ہیں
7. تپشِ دل
ہم اشاروں میں ہی خوابوں کو سجا لیتے ہیں خود
دل کی تپش سے نیا شعلہ بھڑکا دیتے ہیں
8. رفیقِ خاص
بات کرنی ہو جو دل کی، دیر کیسی اے رفیق
اہلِ دل تو درد کو بھی اب سہلا دیتے ہیں
9. رہنمائی
بستیاں ہی بستیاں بنتی رہیں گی ہر طرف
اہلِ دل تو ہر کٹھن رستہ بنا دیتے ہیں
10. یادِ رفتہ (مقطع)
ذکرِ الفت ہو جہاں، "خاکی" وہاں موجود ہے
دشتِ فرقت میں بھی ہم آنسو چمکا دیتے ہیں

0
2