| توڑے غلامی کی جو اس زنجیر کو |
| پائے وہ راحت کی حسیں تعمیر کو |
| تاعمرگرویدہ رہوں اس ذات کا |
| "جس نے بدل ڈالا مری تقدیر کو" |
| ہے تاازل سے تاابد راہ عمل |
| ہر دم بچانا عظمت و توقیر کو |
| سر توڑ کوشش کا ہو گر شیوہ یہاں |
| پھر پاسکے وہ خوابوں کی تعبیر کو |
| تذلیل کے طوفاں سے ناصؔر وہ بچے |
| اپنے گماں میں جو رکھے تحقیر کو |
معلومات