توڑے غلامی کی جو اس زنجیر کو
پائے وہ راحت کی حسیں تعمیر کو
تاعمرگرویدہ رہوں اس ذات کا
"جس نے بدل ڈالا مری تقدیر کو"
ہے تاازل سے تاابد راہ عمل
ہر دم بچانا عظمت و توقیر کو
سر توڑ کوشش کا ہو گر شیوہ یہاں
پھر پاسکے وہ خوابوں کی تعبیر کو
تذلیل کے طوفاں سے ناصؔر وہ بچے
اپنے گماں میں جو رکھے تحقیر کو

0
11